ابنا: علی سیریاتی پر تشدد کو ہوا دینے اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات ہیں جہاں تیونس کی فوج سیاسی اصلاح کے اس عمل میں دخل نہیں دے رہی وہیں سابق صدر کی حامی سکیورٹی سروسز اور پولیس کے ادارے نیک نظر نہیں آئے اور علی سیریاتی کی گرفتاری کے چند گھنٹے بعد ہی صدرارتی محل کے پاس شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ ادھر ملک کے عبوری صدر اور پارلیمان کے سپیکر فواد نے وزیراعظم محمد غنوشی سے کہا ہے کہ وہ متحدہ قومی حکومت تشکیل دیں۔ وزیراعظم غنوشی نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پیر کو سیاسی جماعتوں کے درمیان معاہدے کا اعلان کیا جائے گا۔ بعض مبصرین کے مطابق امریکہ تیونس کے عوامی تحریک کو منحرف کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اپنے کسی قریبی حلیف کو اپنے سابقہ آمر حلیف کے تخت پر بٹھانے کی فکر میں ہے۔
........
/110